Sunan Abi Dawood Hadith 3741 (سنن أبي داود)

[3741] إسنادہ ضعیف

درست ضعیف و أبان بن طارق: مجہول الحال (تقریب: 1825،139)

انوار الصحیفہ ص 132

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ،عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ،عَنْ نَافِعٍ،قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ،قَالَ: رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ،فَقَدْ عَصَی اللہَ وَرَسُولَہُ،وَمَنْ دَخَلَ عَلَی غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا،وَخَرَجَ مُغِيرًا. قَالَ أَبو دَاود: أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْہُولٌ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جسے دعوت دی گئی اور اس نے اسے قبول نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی،اور جو شخص بن بلائے کسی دعوت میں جا پہنچا،تو وہ ان میں چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر نکلا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: (راوی) ابان بن طارق مجہول ہے۔