Sunan Abi Dawood Hadith 3817 (سنن أبي داود)
[3817] إسنادہ ضعیف
في سماع وھب بن عقبۃ من فجیع رضي اللہ عنہ نظر
والحدیث ضعفہ البیہقي (357/9) بقولہ:’’وفي ثبوت ھذہ الأحادیث نظر‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَہْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ الْمَيْتَةِ قَالَ مَا طَعَامُكُمْ قُلْنَا نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَسَّرَہُ لِي عُقْبَةُ قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً قَالَ ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ فَأَحَلَّ لَہُمْ الْمَيْتَةَ عَلَی ہَذِہِ الْحَالِ قَالَ أَبُو دَاوُد الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ
سیدنا فجیع عامری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور پوچھا: کیا ہمارے لیے مردار حلال نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تمہارا طعام کیا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: غبوق اور صبوح۔ابونعیم کہتے ہیں کہ عقبہ (عقبہ بن وہب) نے مجھے اس کی وضاحت کی کہ ایک پیالہ دودھ صبح اور ایک پیالہ دودھ رات کو۔کہا: میرے باپ کی قسم! یہ تو بڑی سخت بھوک ہے۔چنانچہ آپ ﷺ ان کے لیے اس حالت میں مردار کو حلال قرار دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دن کے آخر میں پی جانے والی چیز کو غبوق اور دن کے شروع میں پی جانے والی کو صبوح کہتے ہیں۔