Sunan Abi Dawood Hadith 3855 (سنن أبي داود)
[3855]إسنادہ صحیح
رواہ ابن الترمذي (2038 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (3436 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (4532، 5078، 5079)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَأَصْحَابَہُ كَأَنَّمَا عَلَی رُءُوسِہِمْ الطَّيْرُ فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ ہَا ہُنَا وَہَا ہُنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ أَنَتَدَاوَی فَقَالَ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَہُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْہَرَمُ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا (تو دیکھا کہ) آپ کے صحابہ (آپ کی مجلس میں) ایسے بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہوں،(یعنی انتہائی باادب اور پرسکون تھے) چنانچہ میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ادھر ادھر سے بدوی لوگ آئے اور انہوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہم دوا دارو کر لیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’دوا کیا کرو،بلاشبہ اللہ عزوجل نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کی دوا بھی پیدا کی ہے،سوائے ایک بیماری کے یعنی بڑھاپا (اس کا کوئی علاج نہیں)۔‘‘