Sunan Abi Dawood Hadith 3856 (سنن أبي داود)

[3856]إسنادہ حسن

أخرجہ الترمذي (2037 وسندہ حسن) وابن ماجہ (3442 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو عَامِرٍ وَہَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَمَعَہُ عَلِيٌّ عَلَيْہِ السَّلَام وَعَلِيٌّ نَاقِہٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَأْكُلُ مِنْہَا وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَقُولُ لِعَلِيٍّ مَہْ إِنَّكَ نَاقِہٌ حَتَّی كَفَّ عَلِيٌّ عَلَيْہِ السَّلَام قَالَتْ وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا فَجِئْتُ بِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ ہَذَا فَہُوَ أَنْفَعُ لَكَ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ ہَارُونُ الْعَدَوِيَّةَ

سیدنا ام منذر (ام منذر سلمیٰ بنت قیس انصاریہ) بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جو بیماری سے اٹھے تھے اور کمزور تھے۔ہمارے ہاں کھجوروں کے خوشے لٹک رہے تھے۔رسول اللہ ﷺ اٹھے اور ان سے کھانے لگے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے اٹھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا۔’’رک جاؤ! تم ابھی کمزور ہو۔‘‘ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (کھانے سے) رکے رہے۔ام منذر کہتی ہیں کہ میں نے جَو اور چقندر پکائے اور آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’علی! لو یہ تمہارے لیے مفید ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: (میرے شیخ) ہارون (ہارون بن عبداللہ) نے (اپنے شیخ) ابوداود سے ام منذر کے بارے میں نقل کیا کہ یہ ’’عدویہ‘‘ (بنو عدی کی خاتون) ہیں۔