Sunan Abi Dawood Hadith 3869 (سنن أبي داود)

[3869] إسنادہ ضعیف

عبد الرحمٰن بن رافع التنوخي: ضعیف (تقریب التہذیب: 3856)

انوار الصحیفہ ص 138

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يِزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ ﷺ خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيہِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ’’مجھے کوئی پروا نہیں جو چاہے کرتا پھروں اگر میں تریاق پیوں یا منکے لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تریاق کا استعمال نہ کرنا نبی کریم ﷺ کی خصوصیت تھی۔اور تریاق کے استعمال میں علماء کی ایک جماعت نے رخصت دی ہے۔