Sunan Abi Dawood Hadith 3896 (سنن أبي داود)

[3896]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ زَكَرِيَّا،قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ،عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ،عَنْ عَمِّہِ, أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَأَسْلَمَ،ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِہِ،فَمَرَّ عَلَی قَوْمٍ عِنْدَہُمْ رَجُلٌ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ،فَقَالَ أَہْلُہُ: إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ ہَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ،فَہَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ نُدَاوِيہِ؟ فَرَقَيْتُہُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ،فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ،فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہُ،فَقَالَ: ہَلْ إِلَّا ہَذَا؟-وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: ہَلْ قُلْتَ غَيْرَ ہَذَا؟-،قُلْتُ: لَا،قَالَ: خُذْہَا،فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ, لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ.

جناب خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا (علاقہ بن صحار سلیطی التمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔پھر واپس لوٹے تو ایک قوم کے پاس سے گزرے ‘ ان کے ہاں ایک مجنون آدمی تھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔اس کے گھر والوں نے ان سے کہا: تحقیق ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہارا یہ صاحب (رسول اللہ ﷺ) خیر کے ساتھ آیا ہے۔تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کر دو؟ چنانچہ میں نے اس کو سورۃ فاتحہ سے دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔پھر انہوں نے مجھے سو بکریاں دیں تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ ﷺ کو خبر دی۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا بس یہی؟‘‘ مسدد نے دوسرے موقع پر کہا: ’’کیا تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا تھا؟‘‘ میں نے کہا: نہیں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’لے لو۔قسم میری عمر کی! لوگ باطل دم جھاڑ سے کھاتے ہیں ‘ جبکہ تم ایسے دم سے کھا رہے ہو جو حق ہے۔‘‘