Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 393 (سنن أبي داود)

[393]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (583)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فُلَانِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْہِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّی بِيَ الظُّہْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَصَلَّی بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ وَصَلَّی بِيَ يَعْنِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّی بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّی بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ صَلَّی بِيَ الظُّہْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ وَصَلَّی بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّہُ مِثْلَيْہِ وَصَلَّی بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّی بِيَ الْعِشَاءَ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلَّی بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ ہَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ ہَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ

جناب نافع بن جبیر بن مطعم،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو بار امامت کرائی۔(پہلی بار) مجھے ظہر کی نماز پڑھائی اس وقت جبکہ سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمے کے برابر تھا اور عصر کی نماز پڑھائی جب اس کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت کہ روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور عشاء کی نماز پڑھائی جب کہ شفق (سرخی) افق میں غائب ہو گئی اور فجر کی نماز پڑھائی جبکہ روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔جب دوسرا دن ہوا تو مجھے ظہر کی نماز پڑھائی جبکہ اس کا سایہ اس کے مثل تھا اور عصر کی نماز پڑھائی جبکہ اس کا سایہ دو مثل تھا اور مغرب کی نماز پڑھائی جبکہ روزے دار روزہ کھولتا ہے اور عشاء کی نماز پڑھائی جبکہ رات کا تہائی حصہ گزر گیا اور مجھے فجر کی نماز پڑھائی اور خوب سفیدی کی۔پھر (جبرائیل علیہ السلام) میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اے محمد! آپ سے پہلے انبیاء کے یہی اوقات ہیں۔اور (نماز کے) اوقات ان دونوں (وقتوں) کے مابین ہیں۔‘‘