Sunan Abi Dawood Hadith 394 (سنن أبي داود)
[394]حسن
للحدیث شواھد حسن عند الحاکم (1/190 تا 193) وصححہ الحاکم علیٰ شرط الشیخین ووافقہ الذہبي . أسامۃ بن زید اللیثي وثقہ الجمہور، وصرح الزھري بالسماع في أصل الحدیث عند البیھقي (1/441)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَی الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ ﷺ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا ﷺ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ فَقَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ نَزَلَ جِبْرِيلُ ﷺ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَہُ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِہِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ صَلَّی الظُّہْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُہُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَہَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنْ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حَتَّی يَجْتَمِعَ النَّاسُ وَصَلَّی الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّی مَرَّةً أُخْرَی فَأَسْفَرَ بِہَا ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُہُ بَعْدَ ذَلِكَ التَّغْلِيسَ حَتَّی مَاتَ وَلَمْ يَعُدْ إِلَی أَنْ يُسْفِرَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّہْرِيِّ مَعْمَرٌ وَمَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُہُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الْوَقْتَ الَّذِي صَلَّی فِيہِ وَلَمْ يُفَسِّرُوہُ وَكَذَلِكَ أَيْضًا رَوَی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عُرْوَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ وَأَصْحَابِہِ إِلَّا أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَذْكُرْ بَشِيرًا وَرَوَی وَہْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَقْتَ الْمَغْرِبِ قَالَ ثُمَّ جَاءَہُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ يَعْنِي مِنْ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ ثُمَّ صَلَّی بِيَ الْمَغْرِبَ يَعْنِي مِنْ الْغَدِ وَقْتًا وَاحِدًا وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ حَدِيثِ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ
سیدنا عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے اور نماز عصر میں انہوں نے کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: یاد رہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے محمد ﷺ کو نمازوں کے اوقات کی خبر دی ہے۔تو عمر (عمر بن عبدالعزیز) نے ان سے کہا: اپنی بات پر ذرا غور کیجئے! تو عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے میں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا،وہ کہتے تھے ’’جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے نماز کے اوقات کی اطلاع دی اور میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی،پھر پڑھی،پھر پڑھی،پھر پڑھی،پھر پڑھی۔آپ یہ بیان کرتے ہوئے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کو شمار بھی کر رہے تھے۔تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز ظہر پڑھتے تھے جبکہ سورج ڈھل جاتا تھا اور سخت گرمی کے وقت کبھی مؤخر بھی کر لیتے تھے۔اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ عصر کی نماز پڑھتے تھے جبکہ سورج اونچا اور سفید ہوتا تھا،زردی آنے سے پہلے پہلے۔آدمی نماز پڑھ کے نکلتا اور غروب سے پہلے پہلے ذوالحلیفہ مقام تک پہنچ جاتا تھا۔اور مغرب کی نماز پڑھتے جس وقت کہ سورج غروب ہو جاتا اور عشاء پڑھتے جبکہ افق مغرب سیاہ ہو جاتا اور کبھی مؤخر بھی کر دیتے۔حتیٰ کہ لوگ جمع ہو جاتے اور فجر کی نماز آپ نے ایک بار اندھیرے میں پڑھی اور ایک دفعہ پڑھی تو روشن کر دی مگر اس کے بعد آپ کی نماز اندھیرے ہی میں ہوا کرتی تھی حتیٰ کہ آپ کی وفات ہو گئی اور کبھی روشن نہ کی۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو زہری سے معمر،مالک،ابن عیینہ،شعیب بن ابی حمزہ اور لیث بن سعد وغیرہ نے روایت کیا ہے مگر اس میں وہ وقت ذکر نہیں کیا جس میں کہ آپ نے نماز پڑھی اور نہ ان لوگوں نے اس طرح تفصیل بیان کی ہے۔اور ایسے ہی ہشام بن عروہ اور حبیب بن ابی مرزوق نے عروہ سے معمر اور اس کے ساتھیوں کی مانند روایت کیا ہے مگر حبیب نے بشیر کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔اور وہب بن کیسان نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مغرب کا وقت روایت کیا ہے۔کہا کہ پھر دوسرے دن (جبرائیل علیہ السلام) مغرب کے لیے آئے جبکہ سورج غروب ہو گیا۔ایک ہی وقت میں (یعنی پہلے اور دوسرے دن کا وقت ایک ہی تھا)۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم ﷺ سے ایسے ہی روایت کیا ہے یعنی: ’’پھر مجھے اگلے دن نماز مغرب پڑھائی۔ایک ہی وقت میں۔‘‘ اور اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بہ سند ((حسان بن عطیۃ عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ عن النبی ﷺ)) مروی ہے۔