Sunan Abi Dawood Hadith 3930 (سنن أبي داود)

[3930]صحیح

صحیح بخاری (2563) صحیح مسلم (1504)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا وُہَيْبٌ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِہَا،فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ أَہْلِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ, فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ،فَأَعِينِينِي،فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَہْلُكِ أَنْ أَعُدَّہَا عَدَّةً وَاحِدَةً،وَأَعْتِقَكِ،وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ،فَذَہَبَتْ إِلَی أَہْلِہَا... وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّہْرِيِّ،زَادَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِہِ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُہُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَالْوَلَاءُ لِي, إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنی کتابت کے سلسلے میں مدد لینے کے لیے آئی اور کہا: تحقیق میں نے اپنے گھر والوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے ‘ ہر سال ایک اوقیہ ادا کیا کروں گی۔چنانچہ آپ میری کچھ مدد کریں۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر تیرے گھر والے (مالک) پسند کریں تو تیری یہ ساری رقم میں یکمشت انہیں دے دیتی ہوں اور تمہیں آزاد کر دیتی ہوں اور تیرا ولاء میرے لیے ہو گا۔تو وہ ان کے پاس گئی۔اور (ہشام نے) زہری کی روایت کے مانند بیان کیا۔اس روایت میں نبی کریم ﷺ کے فرمان کے آخر میں یہ اضافہ ہے۔’’لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ ایک کہتا ہے کہ اے فلاں! تم آزاد کر دو اور ولاء میرا رہا ‘ حالانکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔‘‘