Sunan Abi Dawood Hadith 3929 (سنن أبي داود)
[3929]صحیح
صحیح بخاری (2661، 2717) صحیح مسلم (1504)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا،أَخْبَرَتْہُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُہَا فِي كِتَابَتِہَا،وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِہَا شَيْئًا،فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَی أَہْلِكِ, فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ،وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ،فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَہْلِہَا فَأَبَوْا،وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ،وَيَكُونُ لَنَا وَلَاؤُكِ،فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي, فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ،ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللہِ, مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللہِ فَلَيْسَ لَہُ, وَإِنْ شَرَطَہُ مِائَةَ مَرَّةٍ, شَرْطُ اللہِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئی ‘ وہ ان سے اپنے معاہدہ کتابت کے سلسلے میں مدد چاہتی تھی اور اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہیں کر پائی تھی ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ ‘ اگر وہ پسند کریں کہ تیری کتابت میں ادا کر دوں اور تیرا ولاء مجھے حاصل ہو تو میں یہ کرنے کو تیار ہوں۔اس نے جا کر اپنے گھر والوں (مالکوں) سے بات کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ (عائشہ) تجھ پر خرچ کر کے ثواب لینا چاہیں تو لے لیں ‘ مگر ولاء ہمارے ہی لیے رہے گا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول ﷺ سے ذکر کی ‘ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا ’’اسے خرید لو اور پھر آزاد کر دو۔ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایسی ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اﷲ کی کتاب میں نہیں ہیں جو کوئی ایسی شرط کرے جو اﷲ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ‘ اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔اﷲ کی شرط برحق اور مضبوط ہے۔‘‘ (یعنی اس کے ماسوا باطل ہیں)۔