Sunan Abi Dawood Hadith 3984 (سنن أبي داود)

[3984]صحیح

رواہ مسلم (2380) مطولًا مشکوۃ المصابیح (2258)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِہِ وَقَالَ رَحْمَةُ اللہِ عَلَيْنَا وَعَلَی مُوسَی لَوْ صَبَرَ لَرَأَی مِنْ صَاحِبِہِ الْعَجَبَ وَلَكِنَّہُ قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَہَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي طَوَّلَہَا حَمْزَةُ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب دعا فرماتے تو پہلے اپنے آپ سے ابتداء فرماتے اور کہتے ((رحمۃ اللہ علینا وعلی موسی)) ’’اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر۔اگر وہ صبر کر لیتے تو وہ اپنے صاحب (خضر) سے بہت عجائب دیکھتے،لیکن انہوں نے خود ہی کہہ دیا: اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ مت رکھیں۔آپ میری طرف سے معذرت کو پہنچ چکے۔“ (حمزہ الزیات نے لفظ ((لدنی)) کو طول دے کر یعنی دال کے ضمہ اور نون کی شد کے ساتھ ثقیل کر کے پڑھا۔(یہ مضمون سورۃ الکہف،آیت 76 کا ہے)۔