Sunan Abi Dawood Hadith 4020 (سنن أبي داود)
[4020]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (1767 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4342)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ،عَنْ أَبِي نَضْرَةَ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاہُ بِاسْمِہِ, إِمَّا قَمِيصًا،أَوْ عِمَامَةً،ثُمَّ يَقُولُ: اللہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ،أَنْتَ كَسَوْتَنِيہِ،أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِہِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَہُ،وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ. قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ إِذَا لَبِسَ أَحَدُہُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا, قِيلَ لَہُ: تُبْلَی وَيُخْلِفُ اللہُ تَعَالَی.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی نیا کپڑا حاصل کرتے تو اس کا نام لیتے یعنی قمیص یا پگڑی وغیرہ اور یہ دعا پڑھتے ((اللہم لک الحمد أنت کسوتنیہ أسألک من خیرہ وخیر ما صنع لہ وأعوذ بک من شرہ وشر ما صنع لہ)) ’’اے اللہ! تیری ہی تعریف ہے ‘ تو نے مجھے یہ پہنایا ہے ‘ میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے ‘ میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔‘‘ ابونضرہ نے کہا: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اسے یوں دعا دی جائی ((تبلی ویخلف اللہ تعالی)) ’’اللہ کرے تم اسے خوب (استعمال کر کے) پرانا کرو اور اللہ اس کے بعد اور بھی عنایت فرمائے۔