Sunan Abi Dawood Hadith 4024 (سنن أبي داود)

[4024]صحیح

صحیح بخاری (5823)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ الْجَرَّاحِ الْأَذَنِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيہَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ فَقَالَ مَنْ تَرَوْنَ أَحَقُّ بِہَذِہِ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِہَا فَأَلْبَسَہَا إِيَّاہَا ثُمَّ قَالَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي مَرَّتَيْنِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَی عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ سَنَاہْ سَنَاہْ يَا أُمَّ خَالِدٍ وَسَنَاہْ فِي كَلَامِ الْحَبَشَةِ الْحَسَنُ

سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے ‘ ان میں ایک چھوٹی سی دھاری دار اونی چادر بھی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تمہارا کیا خیال ہے کہ اس کا زیادہ حقدار کون ہے؟‘‘ تو صحابہ خاموش رہے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’ام خالد کے میرے پاس لاؤ۔‘‘ اسے لایا گیا تو یہ آپ ﷺ نے اسے اوڑھا دی۔پھر فرمایا ((أبلی وأخلقی)) ’’اللہ کرے تم اسے خوب پہنو اور پرانا کرو۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ دو بار فرمایا۔اور آپ ﷺ اس چادر کی سرخ یا زرد دھاریاں دیکھنے لگے اور فرماتے جاتے تھے ((سناہ سناہ یا أم خالد)) اور یہ لفظ حبشی زبان میں ’’خوبصورت‘‘ کے معنی میں آتا ہے۔(یعنی بہت خوبصورت،بہت خوبصورت ہے۔اے ام خالد!)۔