Sunan Abi Dawood Hadith 4054 (سنن أبي داود)
[4054]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (3594 وسندہ حسن) وأصلہ عند مسلم (2069)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَی أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَی ثَوْبًا شَأْمِيًّا فَرَأَی فِيہِ خَيْطًا أَحْمَرَ فَرَدَّہُ فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہَا فَقَالَتْ يَا جَارِيَةُ نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَخْرَجَتْ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ
عبداللہ ابوعمر سے روایت ہے اور یہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے غلام تھے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بازار میں دیکھا کہ انہوں نے ایک شامی کپڑا خریدنا چاہا ‘ پھر دیکھا کہ اس میں سرخ دھاگے پڑے ہیں تو انہوں نے واپس کر دیا۔پھر میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں یہ واقعہ بتایا تو انہوں نے لونڈی کو بلایا اور کہا: میرے پاس رسول اللہ ﷺ کا جبہ لے آؤ۔تو وہ ایک طیلسان کا (موٹا اونی) جبہ لے آئی جس کا دامن ‘ دونوں کف اور دونوں طرف کے چاک موٹے ریشمی دھاگے سے کڑھے ہوئے تھے۔