Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4066 (سنن أبي داود)

[4066]حسن

رواہ ابن ماجہ (3603 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (708)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ الْغَازِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ ہَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ ثَنِيَّةٍ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ فَقَالَ مَا ہَذِہِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ فَعَرَفْتُ مَا كَرِہَ فَأَتَيْتُ أَہْلِي وَہُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَہُمْ فَقَذَفْتُہَا فِيہِ ثُمَّ أَتَيْتُہُ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللہِ مَا فَعَلَتْ الرَّيْطَةُ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ أَلَا كَسَوْتَہَا بَعْضَ أَہْلِكَ فَإِنَّہُ لَا بَأْسَ بِہِ لِلنِّسَاءِ

جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھاٹی سے نیچے اترے۔آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ میں نے ایک اکہری چادر لی ہوئی تھی جو ہلکے عصفری رنگ سے رنگی ہوئی تھی۔آپ ﷺ نے پوچھا: ’’تم نے یہ کیسی چادر اپنے اوپر لی ہوئی ہے‘‘ میں آپ ﷺ کی ناپسندیدگی کی وجہ سمجھ گیا۔پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور وہ اپنا تنور دہکا رہے تھے تو میں نے اس چادر کو اس میں دے مارا۔پھر میں اگلے دن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ’’عبداللہ! اس چادر کا کیا ہوا؟‘‘ میں نے آپ ﷺ کو بتلایا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو نے اسے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہ دے دیا؟ عورتوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘