Sunan Abi Dawood Hadith 4084 (سنن أبي داود)
[4084]إسنادہ صحیح
أخرجہ الترمذي (2722 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (1918)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ أَبِي غِفَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْہُجَيْمِيُّ وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُہُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِہِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْہُ قُلْتُ مَنْ ہَذَا قَالُوا ہَذَا رَسُولُ اللہِ ﷺ قُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللہِ مَرَّتَيْنِ قَالَ لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ رَسُولُ اللہِ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللہِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَہُ كَشَفَہُ عَنْكَ وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَہُ أَنْبَتَہَا لَكَ وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَہُ رَدَّہَا عَلَيْكَ قَالَ قُلْتُ اعْہَدْ إِلَيَّ قَالَ لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَہُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً قَالَ وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنْ الْمَعْرُوفِ وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْہِ وَجْہُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ الْمَعْرُوفِ وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَی الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّہَا مِنْ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْہُ بِمَا تَعْلَمُ فِيہِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْہِ
سیدنا ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی بات خوب سنتے اور مانتے تھے۔وہ جو بھی کہتا اسے قبول کرتے تھے۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔میں بھی حاضر ہو گیا اور کہا: ((علیک السلام یا رسول اللہ)) ’’آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول!‘‘ میں نے یہ دو بار کہا۔آپ نے فرمایا ’’یہ لفظ ((علیک السلام)) مت کہو۔یہ میت کا تحیہ اور سلام ہے۔بلکہ یوں کہو ((السلام علیک)) میں نے کہا: (کیا) آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ نے فرمایا ’’میں اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں کہ جب تمہیں کوئی دکھ پہنچے اور تم اسے پکارو،تو وہ اسے تم سے دور کر دے،اگر تمہیں خشک سالی کا سامنا ہو،تم اس سے دعا کرو تو وہ تمہاری کھیتیاں اگا دے۔جب تم کسی صحرا یا ویران اور بنجر زمین میں ہو اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اسے پکارو تو وہ اسے تمہیں واپس لوٹا دے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔آپ نے فرمایا ’’کسی کو گالی نہ دینا۔‘‘ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی کسی نہ آزاد کو نہ غلام کو،نہ اونٹ کو نہ بکری کو۔آپ نے فرمایا ’’کسی نیکی کو حقیر مت جاننا،اپنے بھائی سے بات کرو تو کھلے چہرے سے بات کیا کرو بلاشبہ یہ نیکی ہے،اور اپنی چادر آدھی پنڈلی تک اونچی رکھا کرو،اور اگر نہ کر سکو تو ٹخنوں تک کر سکتے ہو۔(ٹخنوں سے نیچے) چادر لٹکانے سے بچنا۔بیشک یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔اور اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہے اور تمہیں تمہاری کسی بات پر جو وہ جانتا ہو عار دلائے تو تم اس کے عیب پر جو اس میں ہو اسے عار مت دلانا،بلاشبہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔‘‘