Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4086 (سنن أبي داود)

[4086]حسن

انظر الحدیث السابق (638)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ مَا لَكَ أَمَرْتَہُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْہُ قَالَ إِنَّہُ كَانَ يُصَلِّي وَہُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ وَإِنَّ اللہَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اتفاق سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور اس کا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا تھا۔تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا ’’جاؤ اور وضو کرو۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔پھر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’جاؤ اور وضو کرو۔‘‘ تو ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ ﷺ خاموش ہو رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ شخص تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ (ٹخنے سے نیچے کپڑا) لٹکانے والے (مرد) کی نماز قبول نہیں کرتا۔“