Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4106 (سنن أبي داود)

[4106]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (3120)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَی فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَہَبَہُ لَہَا قَالَ وَعَلَی فَاطِمَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِہِ رَأْسَہَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْہَا وَإِذَا غَطَّتْ بِہِ رِجْلَيْہَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَہَا فَلَمَّا رَأَی النَّبِيُّ ﷺ مَا تَلْقَی قَالَ إِنَّہُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا ہُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے جو آپ ﷺ نے ان کو ہبہ کیا تھا۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایسا کپڑا تھا کہ وہ اگر اسے سر پر لپیٹتی تو ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا ‘ اور اگر پاؤں کو چھپاتیں تو سر پر نہ رہتا تھا۔پس جب نبی کریم ﷺ نے اس کی اس الجھن کو دیکھا تو فرمایا ’’تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں ‘ تمہارے سامنے صرف تمہارے والد ہیں اور تمہارا غلام۔‘‘