Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4107 (سنن أبي داود)

[4107]صحیح

صحیح مسلم (2181)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ،عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ وَہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: كَانَ يَدْخُلُ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ مُخَنَّثٌ،فَكَانُوا يَعُدُّونَہُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ،فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمًا،وَہُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ،وَہُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً،فَقَالَ: إِنَّہَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ،وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَلَا أَرَی ہَذَا يَعْلَمُ مَا ہَاہُنَا؟! لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ ہَذَا،فَحَجَبُوہُ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک ہیجڑا نبی کریم ﷺ کی ازواج کے گھروں میں آتا جاتا تھا اور لوگ اس کے بارے میں سمجھتے تھے کہ اس میں عورتوں کی طرف کوئی میلان نہیں اور یہ ((غیر أولی الإربۃ)) میں سے ہے۔ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور وہ آپ ﷺ کی کسی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک عورت کی تعریف میں یوں کہہ رہا تھا کہ وہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب کمر پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سے واپس ہوتی ہے۔(یعنی پہلوؤں کی طرف سے چار چار بل نظر آتے ہیں جو اس کے فربہ اندام اور خوبصورت ہونے کی علامت ہیں) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ بھی ان عورتوں کی مخفی باتیں جانتا ہے ‘ آئندہ یہ تمہارے ہاں ہرگز نہ آیا کرے۔‘‘ چنانچہ اسے روک دیا گیا۔