Sunan Abi Dawood Hadith 4126 (سنن أبي داود)
[4126]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (4253 وسندہ حسن) وللحدیث شواھد مشکوۃ المصابیح (510)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَہُ عَنْ أُمِّہِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ أَنَّہَا قَالَتْ كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيہَا الْمَوْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہَا فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ لَوَ أَخَذْتِ جُلُودَہَا فَانْتَفَعْتِ بِہَا فَقَالَتْ أَوَ يَحِلُّ ذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ مَرَّ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَہُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَوْ أَخَذْتُمْ إِہَابَہَا قَالُوا إِنَّہَا مَيْتَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُطَہِّرُہَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ
عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں کہ احد کی جانب میری بکریاں ہوتی تھیں۔ہوا یہ کہ وہ مرنا شروع ہو گئیں تو میں ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا۔سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کے چمڑے اتار لیا کرو تو ان سے فائدہ اٹھاؤ گی۔کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ حلال ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے،وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو۔تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ’’تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے۔‘‘ انہوں نے کہا: یہ مردار ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے پانی اور قرظ پاک کر دیتا ہے۔‘‘ (قرظ کیکر کی مانند ایک درخت ہوتا ہو جو چمڑا صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔)