Sunan Abi Dawood Hadith 4153 (سنن أبي داود)
[4153]صحیح
صحیح مسلم (2106)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،أَخْبَرَنَا خَالِدٌ،عَنْ سُہَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ،عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ،عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ،قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيہِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ وَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلْہَا عَنْ ذَلِكَ،فَانْطَلَقْنَا،فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،بِكَذَا وَكَذَا،فَہَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ ﷺ يَذْكُرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا،وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُہُ فَعَلَ،خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي بَعْضِ مَغَازِيہِ،وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَہُ،فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا،فَسَتَرْتُہُ عَلَی الْعَرَضِ،فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُہُ،فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ! وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ, الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ،فَنَظَرَ إِلَی الْبَيْتِ،فَرَأَی النَّمَطَ،فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا،وَرَأَيْتُ الْكَرَاہِيَةَ فِي وَجْہِہِ،فَأَتَی النَّمَطَ حَتَّی ہَتَكَہُ،ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللہَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ،وَاللَّبِنَ. قَالَتْ: فَقَطَعْتُہُ وَجَعَلْتُہُ وِسَادَتَيْنِ،وَحَشَوْتُہُمَا لِيفًا،فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ’’جس گھر میں کتا ہو یا بت وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘ زید بن خالد نے ابوطلحہ سے کہا: چلو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں پوچھتے ہیں۔چنانچہ ہم چل دیے۔ہم نے کہا: اے ام المؤمنین! ابوطلحہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے یوں یوں بیان کرتے ہیں۔کیا آپ نے بھی نبی کریم ﷺ کو یہ بیان کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔لیکن میں تمہیں وہ بتاتی ہوں جو میں نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفر میں تشریف لے گئے۔مجھے آپ ﷺ کی واپسی کا انتظار تھا۔میں نے اپنا ایک حاشیہ دار پردہ لیا اور اسے شہتیر کے ساتھ لٹکا دیا۔جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے استقبال کیا اور عرض کیا ((السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ)) ’’حمد اس اللہ کی جس نے آپ کو عزت اور اکرام سے نوازا ہے۔آپ ﷺ نے گھر پر نظر ڈالی تو وہ حاشیہ دار پردہ دیکھا اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔مجھے آپ ﷺ کے چہرے پر ناگواری محسوس کوئی۔پھر آپ ﷺ اس حاشیہ دار پردے کی طرف آئے اور اسے اتار پھینکا ‘ پھر فرمایا ’’بیشک اللہ کے ہمیں ہمارے رزق میں یہ حکم نہیں دیا کہ اینٹوں اور پتھروں کو کپڑے پہناتے پھریں۔‘‘ کہتی ہیں چنانچہ میں نے اس کو پھاڑ کر دو تکیے بنا لیے اور ان میں کھجور کی چھال بھر دی۔تو اس پر آپ ﷺ نے مجھے کچھ نہیں کہا۔