Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4188 (سنن أبي داود)

[4188]صحیح

صحیح بخاری (5917) صحیح مسلم (2336)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ،أَخْبَرَنِي ابْنُ شِہَابٍ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ:كَانَ أَہْلُ الْكِتَابِ-يَعْنِي-يَسْدِلُونَ أَشْعَارَہُمْ،وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَہُمْ،وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ تُعْجِبُہُ مُوَافَقَةُ أَہْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِہِ،فَسَدَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَاصِيَتَہُ،ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو ایسے ہی سیدھا (پیچھے کی طرف) چھوڑ دیا کرتے تھے جب کہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے۔اور رسول اللہ ﷺ کو جن امور میں کوئی حکم نہ دیا گیا ہوتا ‘ آپ ﷺ ان میں اہل کتاب کی موافقت کرنا پسند فرماتے تھے ‘ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بال سیدھے رکھنے شروع کیے مگر بعد میں مانگ نکالنے لگے۔