Sunan Abi Dawood Hadith 4213 (سنن أبي داود)
[4213] إسنادہ ضعیف
سلیمان المنبھي وحمید الشامي مجہولان (تقریب: 2622،1567)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ،عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ،عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّہِيِّ،عَنْ ثَوْبَانَ-مَوْلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ-،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا سَافَرَ, كَانَ آخِرُ عَہْدِہِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَہْلِہِ فَاطِمَةَ،وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْہَا-إِذَا قَدِمَ-فَاطِمَةَ،فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَہُ،وَقَدْ عَلَّقَتْ مِسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَی بَابِہَا،وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ،فَقَدِمَ،فَلَمْ يَدْخُلْ،فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَہُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَی،فَہَتَكَتِ السِّتْرَ،وَفَكَّكَتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ،وَقَطَّعَتْہُ بَيْنَہُمَا،فَانْطَلَقَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُمَا يَبْكِيَانِ،فَأَخَذَہُ مِنْہُمَا،وَقَالَ يَا ثَوْبَانُ! اذْہَبْ بِہَذَا إِلَی آلِ فُلَانٍ-أَہْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ-،إِنَّ ہَؤُلَاءِ أَہْلُ بَيْتِي،أَكْرَہُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِہِمْ فِي حَيَاتِہِمُ الدُّنْيَا،يَا ثَوْبَانُ! اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ.
سیدنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کے لیے روانہ ہوتے تو اپنے اہل کے جس فرد سے سب سے آخر میں ملاقات کرتے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوتیں۔اور جب واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کے ہاں تشریف لاتے۔آپ ﷺ اپنے ایک غزوہ سے واپس آئے جبکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ٹاٹ یا پردہ لٹکایا ہوا تھا اور سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کنگن پہنائے ہوئے تھے۔آپ ﷺ تشریف لائے مگر اندر نہیں گئے۔تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گمان ہوا کہ آپ ﷺ کے اندر نہ آنے کا سبب یہی ہے جو انہوں نے دیکھا ہے۔چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور بچوں سے کنگن اتار لیے اور ان کے سامنے ہی انہیں توڑ ڈالا تو وہ روتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے۔آپ ﷺ نے ان دونوں سے وہ لے لیے اور فرمایا ’’اے ثوبان! انہیں فلاں گھر والوں کے پاس لے جاؤ۔‘‘ جو اہل مدینہ میں سے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ لوگ (فاطمہ ‘ علی ‘ حسن ‘ حسین رضی اللہ عنہم) میرے اہل بیت ہیں ‘ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ یہ اپنی نیکیوں کی جزا اسی دنیا میں کھا لیں۔اے ثوبان! فاطمہ کے لیے عصب (منکوں) کا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لانا۔‘‘