Sunan Abi Dawood Hadith 4215 (سنن أبي داود)
[4215]صحیح
انظر الحدیث السابق (4214)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،عَنْ خَالِدٍ،عَنْ سَعِيدٍ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَنَسٍ... بِمَعْنَی حَدِيثِ عِيسَی بْنِ يُونُسَ (4214)،زَادَ: فَكَانَ فِي يَدِہِ حَتَّی قُبِضَ،وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّی قُبِضَ،وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّی قُبِضَ،وَفِي يَدِ عُثْمَانَ،فَبَيْنَمَا ہُوَ عِنْدَ بِئْرٍ, إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ،فَأَمَرَ بِہَا،فَنُزِحَتْ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْہِ.
قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث عیسیٰ بن یونس کے ہم معنی روایت کی اس میں اضافہ ہے کہ پھر یہ انگوٹھی آپ ﷺ کے ہاتھ میں رہی حتیٰ کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی ‘ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی ‘ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی ‘ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آئی۔اور پھر وہ ایک کنویں کے کنارے بیٹھے تھے کہ اتفاقاً اس میں گر گئی۔تو انہوں نے حکم دیا اور اس کا سارا پانی نکالا گیا۔مگر لوگ اسے تلاش کرنے سے عاجز رہے۔