Sunan Abi Dawood Hadith 4218 (سنن أبي داود)
[4218]صحیح
صحیح بخاری (5866) صحیح مسلم (2091)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ،عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَاتَمًا مِنْ ذَہَبٍ،وَجَعَلَ فَصَّہُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّہِ،وَنَقَشَ فِيہِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ،فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّہَبِ،فَلَمَّا رَآہُمْ قَدِ اتَّخَذُوہَا رَمَی بِہِ،وَقَالَ: لَا أَلْبَسُہُ أَبَدًا،ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ،نَقَشَ فِيہِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ،ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَہُ أَبُو بَكْرٍ،ثُمَّ لَبِسَہُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ،ثُمَّ لَبِسَہُ بَعْدَہُ عُثْمَانُ،حَتَّی وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَی عُثْمَانَ،حَتَّی سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِہِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (پہلے پہل) رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھنا شروع کیا اور اس میں ((محمد رسول اللہ)) کے الفاظ کندہ کروائے تو صحابہ نے بھی سونے کے انگوٹھیاں بنوا لیں۔جب آپ ﷺ نے یہ دیکھا کہ لوگوں نے بھی (ویسی ہی انگوٹھیاں) بنوا لی ہیں تو آپ ﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار پھینکی اور فرمایا ’’میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اس میں بھی ((محمد رسول اللہ)) کے الفاظ نقش کروائے۔آپ ﷺ کے بعد یہ انگوٹھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی ‘ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہنی ‘ پھر ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی حتیٰ کہ اریس نامی کنویں میں گر گئی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس وقت تک لوگوں نے کوئی اختلاف نہیں کیا حتیٰ کہ انگوٹھی ان کے ہاتھ سے گر گئی۔(اس کے بعد اختلافات نے بھی سر اٹھا لیا)۔