Sunan Abi Dawood Hadith 4223 (سنن أبي داود)
[4223]حسن
رواہ النسائي (5198 وسندہ حسن) ولہ شاہد عند مسدد في مسندہ، انظر اتحاف الخیرۃ للبوصیري (6/ 112 ح 5580 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4396)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ, وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ الْمَعْنَی, أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُبَابٍ أَخْبَرَہُمْ،عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ مُسْلِمٍ السُّلَمِيِّ الْمَرْوَزِيِّ أَبِي طَيْبَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيہِ, أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ وَعَلَيْہِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَہٍ،فَقَالَ لَہُ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟!،فَطَرَحَہُ،ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْہِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ،فَقَالَ: مَا لِي أَرَی عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَہْلِ النَّارِ؟ فَطَرَحَہُ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُہُ؟ قَالَ: اتَّخِذْہُ مِنْ وَرِقٍ،وَلَا تُتِمَّہُ مِثْقَالًا. وَلَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ عَبْدَ اللہِ بْنَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يَقُلِ الْحَسَنُ السُّلَمِيَّ الْمَرْوَزِيَّ.
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جب کہ اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’مجھے کیا ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بو پاتا ہوں؟‘‘ تو اس نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی۔وہ دوبارہ آیا تو لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوا تھا ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا بات ہے کہ میں تجھ پر دوزخیوں کا زیور دیکھتا ہوں؟‘‘ تو اس نے وہ بھی اتار پھینکی۔پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز سے انگوٹھی بنواؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’چاندی کی بنواؤ مگر مثقال سے کم رکھنا‘‘ (مثقال ‘ مساوی ہے 4.25 گرام کے)۔محمد بن عبدالعزیز نے ’’عبداللہ بن مسلم‘‘ کا نام ذکر نہیں کیا (بلکہ السلمی المروزی کہا) جبکہ حسن بن علی نے ’’السلمی المروزی نہیں کہا (بلکہ صرف عبداللہ بن مسلم کیا)۔