Sunan Abi Dawood Hadith 4237 (سنن أبي داود)
[4237] إسنادہ ضعیف
نسائی (5140،5141)
امرأۃ ربعي مقبولۃ (تقریب التہذیب: 8795) أي:مجہولۃ الحال،اسم أخت حذیفۃ بن الیمان: فاطمۃ / رضي اللہ عنھما
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنِ امْرَأَتِہِ،عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِہِ؟ أَمَا إِنَّہُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّی ذَہَبًا تُظْہِرُہُ, إِلَّا عُذِّبَتْ بِہِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ (فاطمہ یا خولہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے عورتو! کیا تمہیں زیور بنانے کے لیے چاندی کافی نہیں ہے۔خبردار! جس عورت نے سونے کا زیور پہنا اور اسے ظاہر کیا تو اسے اسی سے عذاب دیا جائے گا۔‘‘