Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4244 (سنن أبي داود)

[4244]حسن

قتادۃ تابعہ الثقۃ حمید بن ھلال عند النسائي فی الکبریٰ (7979، نسخۃ أخریٰ 8032) وغیرہ مشکوۃ المصابیح (5396)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ،عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ،قَالَ: أَتَيْتُ الْكُوفَةَ،فِي زَمَنِ فُتِحَتْ تُسْتَرُ أَجْلُبُ مِنْہَا بِغَالًا, فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ،فَإِذَا صَدْعٌ مِنَ الرِّجَالِ،وَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ تَعْرِفُ-إِذَا رَأَيْتَہُ-أَنَّہُ مِنْ رِجَالِ أَہْلِ الْحِجَازِ،قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ہَذَا؟ فَتَجَہَّمَنِي الْقَوْمُ،وَقَالُوا: أَمَا تَعْرِفُ ہَذَا؟ ہَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ حُذَيْفَةُ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنِ الْخَيْرِ،وَكُنْتُ أَسْأَلُہُ عَنِ الشَّرِّ،فَأَحْدَقَہُ الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ! فَقَالَ: إِنِّي أَرَی الَّذِي تُنْكِرُونَ, إِنِّي قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَرَأَيْتَ ہَذَا الْخَيْرَ الَّذِي أَعْطَانَا اللہُ, أَيَكُونُ بَعْدَہُ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ،قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: السَّيْفُ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ثُمَّ مَاذَا يَكُونُ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ لِلَّہِ خَلِيفَةٌ فِي الْأَرْضِ،فَضَرَبَ ظَہْرَكَ،وَأَخَذَ مَالَكَ, فَأَطِعْہُ،وَإِلَّا, فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ،قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مَعَہُ نَہْرٌ وَنَارٌ،فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِہِ وَجَبَ أَجْرُہُ،وَحُطَّ وِزْرُہُ،وَمَنْ وَقَعَ فِي نَہْرِہِ وَجَبَ وِزْرُہُ وَحُطَّ أَجْرُہُ, قَالَ قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ ہِيَ قِيَامُ السَّاعَةِ.

سبیع بن خالد نے بیان کیا کہ جس زمانے میں (خوزستان میں) تستر کا علاقہ فتح ہوا میں کوفہ آیا۔میں یہاں سے خچر حاصل کرنا چاہتا تھا۔میں مسجد میں چلا گیا تو میں نے وہاں چند آدمی دیکھے جن کی قامت و جسامت متوسط قسم کی تھی ‘ اور (ساتھ ہی) ایک اور آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا ‘ جسے دیکھ کر آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ حجازی آدمی ہے۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے ناپسندیدگی کے سے انداز سے دیکھا اور کہا: کیا تم انہیں نہیں جانتے ہو؟ یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دیگر صحابہ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے اور میں آپ ﷺ سے شر کے متعلق سوال کیا کرتا تھا (کہ کہیں اس میں ملوث نہ ہو جاؤں) تو ان لوگوں نے ان کو غور سے دیکھا۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوب سمجھتا ہوں جو تمہیں برا لگتا ہے۔میں نے عرض کیا تھا: اے اللہ کے رسول! یہ خیر جو اللہ نے ہمیں عنایت فرمائی ہے کیا اس کے بعد شر ہو گا جیسے کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں۔‘‘ میں نے عرض کیا تو اس سے بچاؤ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تلوار۔‘‘ قتیبہ نے اپنی روایت میں کہا: میں (حذیفہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: کیا تلوار سے کوئی فائدہ ہو گا؟ فرمایا ’’ہاں۔‘‘ میں عرض کیا کہ کیا؟ فرمایا ’’صلح ہو گی جس میں (بباطن) خیانت ہو گی دھوکا ہو گا۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر زمین میں اللہ کا کوئی خلیفہ ہو اور وہ تمہاری کمر پر مارے اور تمہار مال چھین لے تب بھی اس کی اطاعت کرنا۔ورنہ اس حال میں مر جانا کہ تم (جنگل میں) کسی درخت کی جڑ چبا کر گزارہ کرنے والے ہو۔‘‘ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’دجال آئے گا ‘ اس کے پاس نہر ہو گی اور آگ۔جو اس کی آگ میں پڑا اس کا اجر ثابت ہوا اور اس کے گناہ ختم ہوئے اور جو اس کی نہر میں پڑا اس کے گناہ ثابت ہوئے اور اجر ضائع ہو گئے۔‘‘ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’پھر قیامت آ جائے گی۔‘‘