Sunan Abi Dawood Hadith 4245 (سنن أبي داود)
[4245]حسن
قتادۃ تابعہ الثقۃ حمید بن ھلال عند النسائي فی الکبریٰ (7979، نسخۃ أخریٰ 8032) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،عَنْ مَعْمَرٍ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ،عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ... بِہَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ: قُلْتُ: بَعْدَ السَّيْفِ-قَالَ بَقِيَّةٌ:-عَلَی أَقْذَاءٍ،وَہُدْنَةٌ عَلَی دَخَنٍ... ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَضَعُہُ عَلَی الرِّدَّةِ الَّتِي فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ عَلَی أَقْذَاءٍ،يَقُولُ: قَذًی،وَہُدْنَةٌ،يَقُولُ: صُلْحٌ عَلَی دَخَنٍ: عَلَی ضَغَائِنَ.
خالد بن خالد یشکری نے یہ حدیث روایت کی،اس میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تلوار کے بعد (کیا ہو گا؟) آپ ﷺ نے فرمایا ’’کچھ لوگ باقی بچیں گے جن کے دلوں میں فساد ہو گا۔بظاہر صلح کریں گے مگر باطن میں دھوکا ہوگا۔‘‘ پھر حدیث بیان کی۔کہا کہ جناب قتادہ رحمہ اللہ اس حدیث کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پیش آنے والے فتنہ ارتداد پر محمول کیا کرتے تھے۔((قذاء ،قذی)) کی جمع ہے۔اس تنکے کو کہتے ہیں جو آنکھ میں پڑ جاتا ہے۔((ہدنۃ)) کا معنی صلح اور ((دخن)) کا معنی ہے سینے کا بغض جلن اور کڑھن۔