Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4246 (سنن أبي داود)

[4246]إسنادہ صحیح

سبیع بن خالد الیشکري البصري وثقہ العجلي المعتدل وابن حبان وغیرھما فھو ثقۃ مشکوۃ المصابیح (5395)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ،عَنْ حُمَيْدٍ،عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ،قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَہْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ،فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ،أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكَ،عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ؟... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ فِتْنَةٌ وَشَرٌّ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ! تَعَلَّمْ كِتَابَ اللہِ وَاتَّبِعْ مَا فِيہِ،ثَلَاثَ مِرَارٍ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: ہُدْنَةٌ عَلَی دَخَنٍ،وَجَمَاعَةٌ عَلَی أَقْذَاءٍ فِيہَا أَوْ فِيہِمْ،قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! الْہُدْنَةُ عَلَی الدَّخَنِ مَا ہِيَ؟ قَالَ: لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَی الَّذِي كَانَتْ عَلَيْہِ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَبَعْدَ ہَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ،عَلَيْہَا دُعَاةٌ عَلَی أَبْوَابِ النَّارِ, فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ! وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَی جِذْلٍ, خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْہُمْ.

نصر بن عاصم لیثی نے بیان کیا کہ ہم بنو لیث کے چند لوگ خالد بن خالد یشکری کے ہاں گئے۔انہوں نے پوچھا آپ کون لوگ ہیں؟ ہم نے بتایا کہ بنو لیث سے ہیں۔ہم آپ کی خدمت میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔تو انہوں نے وہ حدیث بیان کی ‘ کہا کہ ہم (بنو لیث کے لوگ) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس لوٹے۔جبکہ کوفہ میں جانور (خچر وغیرہ) مہنگے تھے۔تو میں اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔تو میں نے اپنے ساتھی (نصر بن عاصم) سے کہا کہ میں مسجد جاتا ہوں اور جب منڈی شروع ہو گی ‘ میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک حلقہ لگا ہوا ہے ‘ گویا ان کے سر کٹے ہوئے (ہمہ تن گوش) ‘ ایک آدمی کی بات بڑے غور سے سن رہے ہیں۔میں بھی ان میں جا کھڑا ہوا تو ایک آدمی میرے پہلو میں آ کھڑا ہوا۔میں نے پوچھا ‘ یہ کون ہے؟ اس نے کہا: کیا تم بصرہ کے ہو؟ میں نے کہا ‘ ہاں۔اس نے کہا: میں جان گیا ہوں ‘ اگر تم کوفہ کے ہوتے تو اس شخص کے بارے میں نہ پوچھتے۔چنانچہ میں اس گفتگو کرنے والے کے قریب ہو گیا (اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے) تو میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ بیان کر رہے تھے کہ لوگ تو رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا۔اور مجھے یقین تھا کہ میں خیر سے محروم نہیں رہوں گا۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھ (اور پڑھا کر) اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کر۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔کہتے ہیں کہ میں نے پھر دریافت کیا ‘ اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھ (اور پڑھا کر) اور جو اس میں ہے اس کی اتباع کر‘‘ اور حدیث بیان کی،اس میں ہے،سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’فتنہ ہو گا اور فساد ہو گا۔‘‘ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد خیر ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی اتباع کرتے رہو‘‘ تین بار فرمایا۔کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد خیر ہو گی؟ فرمایا ’’صلح ہو گی خیانت والی۔اتفاق و اجتماع ہو گا مگر کدورت والا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ((الہدنۃ علی الدخن))سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’لوگوں کے دل پہلے کی سی کیفیت پر واپس نہیں آئیں گے۔‘‘ کہتے ہیں ‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ فرمایا ’’فتنہ ہو گا اندھا اور بہرا۔اور اس کے قائد دوزخ کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے ہوں گے۔تو اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مر جاؤ کہ تم کسی درخت کی جڑ کو چبانے والے ہو تو یہ کیفیت تمہارے لیے اس سے بہتر ہو گی کہ ان میں سے کسی کی اتباع کرو۔‘‘