Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4260 (سنن أبي داود)

[4260] إسنادہ ضعیف

عبد الرحمٰن بن سمیرۃ: مجہول (التحریر: 3889) وثقہ ابن حبان وحدہ

انوار الصحیفہ ص 151

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ،عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ-يَعْنِي: ابْنَ سَمُرَةَ-،قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ،إِذْ أَتَی عَلَی رَأْسٍ مَنْصُوبٍ،فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ ہَذَا! فَلَمَّا مَضَی, قَالَ: وَمَا أُرَی ہَذَا إِلَّا قَدْ شَقِيَ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ مَشَی إِلَی رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي لِيَقْتُلَہُ فَلْيَقُلْ ہَكَذَا،فَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ،وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاہُ الثَّوْرِيُّ،عَنْ عَوْنٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرٍ أَوْ سُمَيْرَةَ وَرَوَاہُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ،عَنْ عَوْنٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ لِيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي بِہَذَا الْحَدِيثِ،عَنْ أَبِي عَوَانَةَ و قَالَ ہُوَ فِي كِتَابِي ابْنُ سَبَرَةَ وَقَالُوا سَمُرَةَ وَقَالُوا سُمَيْرَةَ ہَذَا كَلَامُ أَبِي الْوَلِيدِ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑے مدینے کے ایک راستے پر چل رہا تھا کہ اچانک ایک سر دیکھا جو کسی چیز پر لٹکایا گیا تھا۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اس کا قاتل بڑا بدبخت ہے۔جب آگے بڑھ گئے تو بولے،میرا خیال ہے کہ یہ بڑا بدبخت ہے۔میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے ‘ فرماتے تھے ’’جو آدمی میری امت کے کسی آدمی کو قتل کرنے کے لیے چلے تو اسے اسی طرح کرنا چاہیئے یعنی اپنی گردن بڑھا دے۔قاتل دوزخ میں ہے اور مقتول جنت میں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں اس روایت کو ثوری نے بواسطہ عون ‘ عبدالرحمٰن بن سمیر یا عبدالرحمٰن بن سمیرہ سے روایت کیا ہے اور لیث بن ابی سلیم نے بواسطہ عون ‘ عبدالرحمٰن بن سمیرہ سے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے حسن بن علی نے بیان کیا کہ ابوولید نے یہ حدیث ابو عوانہ سے روایت کی اور کہا کہ میری کتاب میں (راوی کا نام) ابن سبرہ درج ہے جبکہ دوسرے راوی سمرہ اور کئی سمیرہ کہتے ہیں اور یہ کلام ابوولید کا ہے۔