Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4261 (سنن أبي داود)

[4261]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (3958 وسندہ حسن) المشعث بن طریف حسن الحدیث وثقہ ابن حبان وقال صالح بن جزرۃ: ’’ومشعث جلیل، لا یعرف في قضاۃ خراسان أجل منہ‘‘ مشکوۃ المصابیح (5397)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنِ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ،عَنْ أَبِي ذَرٍّ،قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَا أَبَا ذَرٍّ!،قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ،وَسَعْدَيْكَ!... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ, قَالَ فِيہِ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيہِ بِالْوَصِيفِ؟! يَعْنِي: الْقَبْرَ،قُلْتُ: اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ،أَوْ قَالَ: مَا خَارَ اللہُ لِي وَرَسُولُہُ،قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ-أَوْ قَالَ: تَصْبِرُ-،ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَبَا ذَرٍّ!،قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ،قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَدْ غَرِقَتْ بِالدَّمِ؟. قُلْتُ: مَا خَارَ اللہُ لِي وَرَسُولُہُ قَالَ: عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْہُ،قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَفَلَا آخُذُ سَيْفِي وَأَضَعُہُ عَلَی عَاتِقِي؟ قَالَ: شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذَنْ،قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: تَلْزَمُ بَيْتَكَ،قُلْتُ: فَإِنْ دُخِلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: فَإِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْہَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ, فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَی وَجْہِكَ،يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِہِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرِ الْمُشَعَّثَ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے ابوذر!‘‘ میں نے جواب میں کہا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔اور حدیث بیان کی۔اس میں ہے ’’تیرا کیا حال ہو گا جب لوگ مریں گے اور گھر ایک غلام کی قیمت میں ملے گا؟‘‘ مراد ہے قبر۔میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔یا کہا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’صبر کرنا۔‘‘ پھر مجھ سے فرمایا ’’اے ابوذر!‘‘ میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیرا کیا حال ہو گا جب یہ مقام ’’احجارزیت‘‘ خون میں ڈوب جائے گا؟‘‘ میں نے کہا: جو اللہ اور اس کا رسول اللہ میرے لیے پسند فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہیں چلے جانا جہاں کے تم ہو۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تب تو تو انہی لوگوں میں شریک ہو جائے گا۔‘‘ میں عرض کیا: آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا ’’اپنے گھر میں پڑے رہنا۔‘‘ میں نے کہا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر تجھے اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک سے تم سہم جاؤ گے تو اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لینا ‘ وہ تمہارے اور اپنے گناہ سمیٹ لے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حماد بن زید کے علاوہ اور کسی نے مشعث بن طریف کا ذکر نہیں کیا۔