Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4286 (سنن أبي داود)

[4286] إسنادہ ضعیف

قتادۃ عنعن

انوار الصحیفہ ص 152

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ،حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ،عَنْ صَاحِبٍ لَہُ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ،فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِينَةِ ہَارِبًا إِلَی مَكَّةَ،فَيَأْتِيہِ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ مَكَّةَ, فَيُخْرِجُونَہُ وَہُوَ كَارِہٌ،فَيُبَايِعُونَہُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ،وَيُبْعَثُ إِلَيْہِ بَعْثٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِہِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ, فَإِذَا رَأَی النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاہُ أَبْدَالُ الشَّامِ،وَعَصَائِبُ أَہْلِ الْعِرَاقِ, فَيُبَايِعُونَہُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ،ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ, أَخْوَالُہُ كَلْبٌ،فَيَبْعَثُ إِلَيْہِمْ بَعْثًا فَيَظْہَرُونَ عَلَيْہِمْ, وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ،وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْہَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ, فَيَقْسِمُ الْمَالَ،وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّہِمْ ﷺ،وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِہِ فِي الْأَرْضِ, فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ،ثُمَّ يُتَوَفَّی وَيُصَلِّي عَلَيْہِ الْمُسْلِمُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ بَعْضُہُمْ: عَنْ ہِشَامٍ ستِسْعَ سِنِينَ. وقَالَ بَعْضُہُمْ: سَبْعَ سِنِينَ.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ایک خلیفہ کی موت پر اختلاف ہو گا،پھر اہل مدینہ سے ایک آدمی بھاگتا ہوا مکہ پہنچے گا۔اہل مکہ اس کے پاس آئیں گے اور اسے امامت کے لیے کھڑا کریں گے حالانکہ وہ اس عمل کو ناپسند کرتا ہو گا اور وہ اس کے ساتھ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے۔پھر شام والوں کی طرف سے اس کے خلاف ایک لشکر بھیجا جائے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان بیداء مقام پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔لوگ جب یہ حال دیکھیں گے تو شام کے ابدال (صالحین) اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی اور اس کے ساتھ بیعت کریں گی۔پھر قریش میں سے ایک آدمی اٹھے گا جس کا ننھیال بنوکلب میں ہو گا،پھر وہ (قریشی کلبی) ان (مہدی کی بیعت کرنے والوں) کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجے گا تو وہ مہدی والے ان پر غالب آ جائیں گے۔چنانچہ بنوکلب کا یہی لشکر ہو گا (جو مغلوب ہو گا) اور خسارہ ہو گا اس کے لیے جو کلب کی غنیمت میں حاضر نہ ہو گا۔مہدی مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی ﷺ کی سنت نافذ کرے گا اور اسلام اپنی گردن زمین پر ٹکا دے گا۔اور پھر وہ سات سال تک رہے گا۔اس کے بعد اس کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان اس کا جنازہ پڑھیں گے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: بعض راویوں نے ہشام سے ’’نو سال‘‘ روایت کیے ہیں اور بعض نے سات سال۔