Sunan Abi Dawood Hadith 4292 (سنن أبي داود)
[4292]إسنادہ صحیح
أخرجہ ابن ماجہ (4089 وسندہ صحیح) وانظر الحدیث السابق (2767) مشکوۃ المصابیح (5428)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَی خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَہُمْ فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ الْہُدْنَةِ قَالَ قَالَ جُبَيْرٌ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی ذِي مِخْبَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَتَيْنَاہُ فَسَأَلَہُ جُبَيْرٌ عَنْ الْہُدْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَہُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ حَتَّی تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّہُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ بِہَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيہِ وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَی أَسْلِحَتِہِمْ فَيَقْتَتِلُونَ فَيُكْرِمُ اللہُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّہَادَةِ إِلَّا أَنَّ الْوَلِيدَ جَعَلَ الْحَدِيثَ عَنْ جُبَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْبَرٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَاہُ رَوْحٌ وَيَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ كَمَا قَالَ عِيسَی
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابوزکریا،خالد بن معدان کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔تو خالد نے جبیر بن نفیر سے ایک حدیث روایت کی جو ((ہدنۃ)) (مصالحت) کے متعلق تھی۔پھر جبیر نے کہا: چلیں سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلتے ہیں جو کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے۔ہم ان کے پاس پہنچے تو جبیر نے ان سے ((ہدنۃ)) (مصالحت) کے متعلق پوچھا۔تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’تم لوگ رومیوں سے ایک پرامن مصالحت کرو گے۔اور پھر ان کے ساتھ مل کر اپنے پیچھے ایک دشمن سے جنگ کرو گے،ان پر غالب رہو گے،غنیمت پاؤ گے اور صحیح سلامت رہو گے،پھر وہاں سے واپس لوٹو گے اور ایک میدان میں اترو گے جس میں ٹیلے بھی ہوں گے۔تو عیسائیوں میں سے ایک آدمی صلیب بلند کرے گا اور کہے گا صلیب غالب آ گئی۔تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو غصہ آئے گا اور وہ اسے قتل کر ڈالے گا۔تو اس موقع پر رومی دھوکا کریں گے اور جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔‘‘