Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4297 (سنن أبي داود)

[4297]حسن

ولہ شاھد حسن عند أحمد (5/278) مشکوۃ المصابیح (5369)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

-حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الدِّمَشْقِيُّ،حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ،حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ،عَنْ ثَوْبَانَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَی عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَی الْأَكَلَةُ إِلَی قَصْعَتِہَا. فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ،وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ! وَلَيَنْزَعَنَّ اللہُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَہَابَةَ مِنْكُمْ،وَلَيَقْذِفَنَّ اللہُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَہْنَ،فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ! وَمَا الْوَہْنُ؟ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاہِيَةُ الْمَوْتِ.

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کیا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔‘‘ تو کہنے والے نے کہا: کیا یہ ہماری ان دنوں قلت اور کمی کی وجہ سے ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں‘‘ بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے،لیکن جھاگ ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ((وہن)) ڈال دے گا۔‘‘ پوچھنے والے نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ((وہن)) سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔‘‘