Sunan Abi Dawood Hadith 4308 (سنن أبي داود)
[4308] إسنادہ ضعیف
إبراہیم بن صالح ضعفہ الدار قطني والجمہور وقال الحافظ ابن حجر: فیہ ضعف (تقریب: 186)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،حَدَّثَنِي إِبْرَاہِيمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ دِرْہَمٍ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ, فَإِذَا رَجُلٌ،فَقَالَ لَنَا: إِلَی جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَہَا: الْأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ،قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ, أَوْ أَرْبَعًا؟ وَيَقُولَ: ہَذِہِ لِأَبِي ہُرَيْرَةَ،سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ اللہَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُہَدَاءَ،لَا يَقُومُ مَعَ شُہَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُہُمْ.
ابراہیم بن صالح بن درہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا،وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے تو اتفاق سے ہم سے ایک آدمی نے پوچھا: تمہارے قریب پہلو میں ابلہ نامی کوئی بستی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں ‘ تو اس نے کہا: تم میں سے کون میرا ضامن بنتا ہے کہ وہ میرے لیے مسجد عشار میں دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہیں؟ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے سنا ہے ’’اللہ عزوجل قیامت کے دن مسجد عشار سے شہداء کو اٹھائے گے۔شہدائے بدر کے ساتھ ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں اٹھے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مسجد دریا کے کنارے پر ہے۔