Sunan Abi Dawood Hadith 4310 (سنن أبي داود)
[4310]صحیح
صحیح مسلم (2941)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ جَاءَ نَفَرٌ إِلَی مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ فَسَمِعُوہُ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَہَا الدَّجَّالُ قَالَ فَانْصَرَفْتُ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُہُ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا أَوْ الدَّابَّةُ عَلَی النَّاسِ ضُحًی فَأَيَّتُہُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِہَا فَالْأُخْرَی عَلَی أَثَرِہَا قَالَ عَبْدُ اللہِ وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ وَأَظُنُّ أَوَّلَہُمَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا
جناب ابوزرعہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ ایک جماعت مدینہ منورہ میں مروان (مروان بن حکم) کے ہاں گئی۔انہوں نے اس سے علامات قیامت کے سلسلے میں سنا کہ سب سے پہلے دجال نکلے گا۔کہتے ہیں ‘ پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہاں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو عبداللہ نے کہا: اس نے تمہیں کچھ نہیں بتایا۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے ’’بیشک ان علامات میں سب سے پہلے یہ ہے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو گا یا چاشت کے وقت ’’جانور‘‘ ظاہر ہو گا ‘ جو بھی پہلے ہوا دوسرا اس کے بعد ہو جائے گے۔‘‘ سیدنا عبداللہ نے کہا: اور قدیم کتابیں ان کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔میرا خیال ہے کہ ان میں سے پہلی علامت سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے۔