Sunan Abi Dawood Hadith 4311 (سنن أبي داود)
[4311]صحیح
صحیح مسلم (2901)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
-حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ, وَہَنَّادٌ الْمَعْنَی, قَالَ مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ،عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ وَقَالَ ہَنَّادٌ،عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ،عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ،قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ،فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ،فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَنْ تَكُونَ-أَوْ لَنْ تَقُومَ-السَّاعَةُ حَتَّی يَكُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا،وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ،وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ،وَالدَّجَّالُ،وَعِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ،وَالدُّخَانُ،وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ،وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ،وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ،وَآخِرُ ذَلِكَ: تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ.
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے کمرے کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ہم نے قیامت کا ذکر کیا اور ہماری آوازیں بلند ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’قیامت اس وقت تک ہرگز نہیں آئے گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں۔سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ‘ جانور کا نکلنا ‘ یاجوج ماجوج کا ظہور ‘ دجال کا خروح ‘ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی آمد ‘ دخان یعنی دھواں ‘ تین جوانب میں زمین کا دھنسایا جانا ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں اور تیسرا جزیرۃ العرب میں اور ان کے آخر میں یمن سے یعنی وسط عدن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر میں چلا لے جائے گی (علاقہ شام میں جمع کر دے گی)۔‘‘