Sunan Abi Dawood Hadith 4338 (سنن أبي داود)
[4338]صحیح
أخرجہ ابن ماجہ (4005 وسندہ صحیح) إسماعیل بن أبي خالد صرح بالسماع عند أحمد (1/5) مشکوۃ المصابیح (5142، 5147)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،عَنْ خَالِدٍ ح،وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،أَخْبَرَنَا سہُشَيْمٌ الْمَعْنَی،عَنْ إِسْمَاعِيلَ،عَنْ قَيْسٍ،قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللہَ وَأَثْنَی عَلَيْہِ: يَا أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ ہَذِہِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَہَا عَلَی غَيْرِ مَوَاضِعِہَا: عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَيْتُمْ[المائدة: 105]،قَالَ عَنْ خَالِدٍ: وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ ﷺ, يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَی يَدَيْہِ،أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّہُمُ اللہُ بِعِقَابٍ. و قَالَ عَمْرٌو عَنْ ہُشَيْمٍ: وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ, يَقُولُ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيہِمْ بِالْمَعَاصِي،ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَی أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا, إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّہُمُ اللہُ مِنْہُ بِعِقَابٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاہُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ شُعْبَةُ فِيہِ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيہِمْ بِالْمَعَاصِي ہُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُہُ....
جناب قیس (قیس بن ابی حازم) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (اپنے خطبے میں) اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ’’اے لوگو! تم یہ آیت کریمہ پڑھتے تو ہو ((علیکم أنفسکم لا یضرکم من ضل إذا اہتدیتم)) ’’اے ایمان والو! اپنی فکر کرو،جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔‘‘ مگر اس کے معنی و مفہوم غلط سمجھتے ہو۔خالد نے روایت کیا۔ہم نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا ہے ’’بلاشبہ لوگ جب کسی کو ظلم کرتا دیکھیں اور پھر اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔‘‘ اور عمرو (عمرو بن عون) نے ہشیم سے روایت کرتے ہوئے کہا: حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’جس قوم میں اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں اور وہ انہیں روکنے پر قادر ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ اس سبب سے ان سب کو اپنے عقاب کی لپیٹ میں لے لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس روایت کو اسی طرح جیسے کہ خالد نے روایت کیا ہے۔ابواسامہ اور ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے۔جب کہ شعبہ نے یوں بیان کیا ’’جس کسی قوم میں نافرمانیاں ہوتی ہوں اور معاصی سے بچنے والوں کی تعداد زیادہ اور دوسروں کی کم ہو۔(اور پھر بھی وہ نہ روکیں تو ان سب پر عقاب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔‘‘