Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4359 (سنن أبي داود)

[4359]حسن

أخرجہ النسائي (4072 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (2683)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ،عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعْدٍ،قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ اخْتَبَأَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،فَجَاءَ بِہِ،حَتَّی أَوْقَفَہُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! بَايِعْ عَبْدَ اللہِ،فَرَفَعَ رَأْسَہُ،فَنَظَرَ إِلَيْہِ ثَلَاثًا, كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَی،فَبَايَعَہُ بَعْدَ ثَلَاثٍ،ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ،فَقَالَ: أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَی ہَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِہِ فَيَقْتُلُہُ؟. فَقَالُوا: مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللہِ! مَا فِي نَفْسِكَ،أَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَہُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ.

سیدنا سعد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو عبداللہ بن سعد بن ابو سرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں چھپ گیا ‘ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے آئے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا اور درخواست کی: اے اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئیے۔آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا ‘ تین بار ایسے ہوا ‘ آپ ﷺ ہر بار انکار فرماتے رہے ‘ تیسری بار کے بعد آپ ﷺ نے اس سے بیعت لے لی۔پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب میں نے اس کی بیعت لینے سے اپنا ہاتھ روک رکھا تھا تو وہ اس کی طرف اٹھتا اور اسے قتل کر ڈالتا؟‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ کے جی میں کیا ہے؟ آپ ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ فرما دیتے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کسی نبی کو لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت والی ہو۔‘‘