Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4361 (سنن أبي داود)

[4361]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (4075 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِيُّ،أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ،عَنْ إِسْرَائِيلَ،عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ،عَنْ عِكْرِمَةَ،قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ, أَنَّ أَعْمَی كَانَتْ لَہُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ ﷺ،وَتَقَعُ فِيہِ, فَيَنْہَاہَا،فَلَا تَنْتَہِي،وَيَزْجُرُہَا،فَلَا تَنْزَجِرُ،قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ ﷺ،وَتَشْتُمُہُ،فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ،فَوَضَعَہُ فِي بَطْنِہَا،وَاتَّكَأَ عَلَيْہَا فَقَتَلَہَا،فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْہَا طِفْلٌ،فَلَطَّخَتْ مَا ہُنَاكَ بِالدَّمِ،فَلَمَّا أَصْبَحَ،ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ, فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: أَنْشُدُ اللہَ رَجُلًا،فَعَلَ مَا فَعَلَ،لِي عَلَيْہِ حَقٌّ, إِلَّا قَامَ. فَقَامَ الْأَعْمَی يَتَخَطَّی النَّاسَ وَہُوَ يَتَزَلْزَلُ،حَتَّی قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَنَا صَاحِبُہَا, كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ،فَأَنْہَاہَا فَلَا تَنْتَہِي،وَأَزْجُرُہَا فَلَا تَنْزَجِرُ،وَلِي مِنْہَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ،وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً،فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ،فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ،فَوَضَعْتُہُ فِي بَطْنِہَا،وَاتَّكَأْتُ عَلَيْہَا حَتَّی قَتَلْتُہَا! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَلَا اشْہَدُوا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک نابینا تھا،اس کی ایک ام ولد (ایسی لونڈی جس سے اس کی اولاد ہو) تھی اور وہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔وہ اسے منع کرتا تھا مگر مانتی نہ تھی ‘ وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی۔ایک رات وہ نبی کریم ﷺ کی بدگوئی کرنے اور آپ ﷺ کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینے نے ایک برچھا لیا ‘ اسے اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا۔اس لونڈی کے پاؤں میں ایک چھوٹا بچہ آ گیا اور اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا۔جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ سے اس قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ جس نے یہ کاروائی کی ہے اور میرا اس پر حق ہے کہ کھڑا ہو جائے۔‘‘ تو وہ نابینا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا ‘ اس کے قدم لرز رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آ بیٹھا اور بولا: اے اللہ کے رسول! میں اس کا قاتل ہوں۔یہ آپ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔میں اس کو منع کرتا تھا مگر باز نہ آتی تھی۔میں اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی۔میرے اس سے دو بچے بھی ہیں جیسے کہ موتی ہوں اور وہ میرا بڑا اچھا ساتھ دینے والی تھی۔گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی اور برا بھلا کہنے لگی تو میں نے چھرا لیا ‘ اسے اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا حتیٰ کہ اس کو قتل کر ڈالا۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع ہے۔‘‘