Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4363 (سنن أبي داود)

[4363]حسن

وللحدیث شاھد عند النسائي (4076 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ يُونُسَ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ح،وحَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ،قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ،عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ،عَنْ حُمَيْدِ بْنِ ہِلَالٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُطَرِّفٍ،عَنْ أَبِي بَرْزَةَ،قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،فَتَغَيَّظَ عَلَی رَجُلٍ،فَاشْتَدَّ عَلَيْہِ،فَقُلْتُ: تَأْذَنُ لِي يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَضْرِبُ عُنُقَہُ! قَالَ: فَأَذْہَبَتْ كَلِمَتِي غَضَبَہُ،فَقَامَ،فَدَخَلَ،فَأَرْسَلَ إِلَيَّ،فَقَالَ: مَا الَّذِي قُلْتَ آنِفًا؟ قُلْتُ: ائْذَنْ لِي أَضْرِبُ عُنُقَہُ،قَالَ: أَكُنْتَ فَاعِلًا لَوْ أَمَرْتُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ،قَالَ: لَا وَاللہِ, مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ.قَالَ أَبُو دَاوُد: ہَذَا لَفْظُ يَزِيدَ،قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَيْ لَمْ يَكُنْ لِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقْتُلَ رَجُلًا إِلَّا بِإِحْدَی الثَّلَاثِ الَّتِي قَالَہَا رَسُولُ اللہ ﷺ: كُفْرٌ بَعْدَ إِيمَانٍ،أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ،أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرَ نَفْسٍ, وَكَانَ لِلنَّبِيِّ ﷺ أَنْ يَقْتُلَ.

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ وہ کسی آدمی پر ناراض ہوئے اور بہت زیادہ ناراض ہوئے۔میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار ڈالوں؟ تو میری اس بات نے ان کا سب غصہ زائل کر دیا۔پھر وہ وہاں سے اٹھ کر گھر چلے گئے اور مجھے بلوا بھیجا اور کہا: تم نے ابھی ابھی کیا کہا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے کہا: تھا مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔فرمایا اگر میں تجھے ایسے کہہ دیتا تو کیا واقعی تم یہ کر گزرتے؟ میں نے کہا: ہاں۔فرمایا نہیں ‘ اللہ کی قسم! سیدنا محمد ﷺ کے بعد کسی بشر کو یہ مقام حاصل نہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ لفظ یزید بن زریع کے ہیں۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کوئی حق نہیں کہ کسی کو قتل کریں سوائے اس کے کہ تین میں سے کوئی ایک بات ہو ‘ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے ’’ایمان کے بعد کفر ‘ شادی شدہ ہونے کے بعد زنا اور کسی جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کر ڈالنا اور نبی کریم ﷺ کو حق تھا کہ وہ کسی کو قتل کر ڈالیں۔