Sunan Abi Dawood Hadith 4364 (سنن أبي داود)
[4364]صحیح
صحیح بخاری (233) صحیح مسلم (1671)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ أَبِي قِلَابَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ, أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ-أَوْ قَالَ: مِنْ عُرَيْنَةَ-قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ،فَأَمَرَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِلِقَاحٍ،وَأَمَرَہُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا،وَأَلْبَانِہَا،فَانْطَلَقُوا،فَلَمَّا صَحُّوا, قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ،فَبَلَغَ النَّبِيَّ ﷺ خَبَرُہُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ،فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ فِي آثَارِہِمْ،فَمَا ارْتَفَعَ النَّہَارُ حَتَّی جِيءَ بِہِمْ, فَأَمَرَ بِہِمْ،فَقُطِعَتْ أَيْدِيہِمْ،وَأَرْجُلُہُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُہُمْ،وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ. قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَہَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا،وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِہِمْ،وَحَارَبُوا اللہَ وَرَسُولَہُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی (اور وہ بیمار ہو گئے) تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو چند اونٹنیاں عنایت فرمائیں اور حکم دیا کہ وہ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔چنانچہ وہ (باہر چراگاہ میں) چلے گئے۔جب تندرست ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور جانور ہنکا لے گئے۔دن کے پہلے پہر ہی نبی کریم ﷺ کو ان کی خبر مل گئی تو آپ ﷺ نے ان کے تعاقب میں اپنے آدمی بھیجے۔جب دن خوب چڑھ آیا تو انہیں لے آیا گیا۔آپ ﷺ نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے گئے۔ان کی آنکھوں میں گرم لوہے کہ سلاخیں پھیری گئیں اور پتھریلی زمین پر پھینک دیے گئے ‘ وہ پانی مانگتے تھے مگر نہ دیا گیا۔ابوقلابہ نہ کہا: ان لوگوں نے چوری کی،قتل کیے ‘ ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔(یعنی ان کے ساتھ اس سخت ترین معاملے کی وجہ ان کے یہی قصور تھے)۔