Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4382 (سنن أبي داود)

[4382] إسنادہ ضعیف

نسائی (4878)

في سماع أزہر الحرازي من النعمان بن بشیر نظر وھو من الطبقۃ الخامسۃ عند ابن حجر (تقریب التہذیب:308)

وقال النسائي: ’’ھذا حدیث منکر،لا یحتج بہ،أخرجتہ لیعرف القصاص‘‘ (السنن الکبری للنسائي: 7361)

انوار الصحیفہ ص 155

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَةَ،حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ،حَدَّثَنَا صَفْوَانُ،حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْحَرَازِيُّ, أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ سُرِقَ لَہُمْ مَتَاعٌ،فَاتَّہَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ-صَاحِبَ النَّبِيِّ ﷺ-فَحَبَسَہُمْ أَيَّامًا،ثُمَّ خَلَّی سَبِيلَہُمْ،فَأَتَوُا النُّعْمَانَ،فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَہُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلَا امْتِحَانٍ؟! فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ؟! إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَہُمْ, فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ, وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُہُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُہُورِہِمْ! فَقَالُوا: ہَذَا حُكْمُكَ؟ فَقَالَ: ہَذَا حُكْمُ اللہِ وَحُكْمُ رَسُولِہِ ﷺ. قَالَ أَبُو دَاوُد: إِنَّمَا أَرْہَبَہُمْ بِہَذَا الْقَوْلِ, أَيْ: لَا يَجِبُ الضَّرْبُ إِلَّا بَعْدَ الِاعْتِرَافِ.

ازہر بن عبدللہ حرازی سے روایت ہے کہ قبیلہ کلاع کے لوگوں کا کچھ مال چوری ہو گیا۔انہوں نے کچھ جولاہوں پر اس کا الزام لگایا۔ان لوگوں کو سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ صحابی رسول ﷺ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے ان کو کئی دن قید میں رکھا اور پھر چھوڑ دیا۔مال والے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ان لوگوں کو مارے پیٹے اور تحقیق و تفتیش کے بغیر ہی چھوڑ دیا ہے۔تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر چاہو تو میں انہیں مارتا ہوں،اگر تمہارا مال مل گیا تو بہتر ‘ ورنہ اس کا بدلہ تمہاری پیٹھوں سے لوں گا۔جس قدر ان کو مارا ہو گا تمہیں بھی ماروں گا۔انہوں نے کہا: کیا یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کلاعی لوگوں کو اپنی اس بات سے ڈرایا تھا۔اور مقصد واضح کرنا تھا کہ ملزم کو اعتراف کے بعد ہی مارنا درست ہے۔