Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4388 (سنن أبي داود)

[4388]صحیح

أخرجہ النسائي (4964) وھو فی الموطأ (2/839) وصححہ ابن الجارود (826) وابن حبان (1505) وزاد بعض الرواۃ فی السند، واسع بن حبان ثقۃ وھو من المزید في متصل الأسانید مشکوۃ المصابیح (3593)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ, أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ،فَغَرَسَہُ فِي حَائِطِ سَيِّدِہِ،فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّہُ،فَوَجَدَہُ،فَاسْتَعْدَی عَلَی الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ-وَہُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ-،فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ،وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِہِ،فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَی رَافِعِ ابْنِ خَدِيجٍ،فَسَأَلَہُ،عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ،وَلَا كَثَرٍ،فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ مَرْوَانَ أَخَذَ غُلَامِي وَہُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِہِ, وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْہِ فَتُخْبِرَہُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ! فَمَشَی مَعَہُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ،حَتَّی أَتَی مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ،فَقَالَ لَہُ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْكَثَرُ: الْجُمَّارُ.

محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا کہ ایک غلام نے کسی کے باغ سے کھجور کا ایک پودا چوری کر کے اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا۔پودے والا اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا اور اسے پا لیا۔پھر اس غلام کا مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں پیش کر دیا جو ان دنوں مدینے کے امیر تھے۔مروان نے غلام کو قید کر لیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دے۔تب غلام کا مالک سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ‘ وہ فرماتے تھے ’’(درختوں پر لگے) پھل میں اور کھجور کی گری میں ہاتھ نہیں کٹتا۔‘‘ تو اس آدمی نے کہا: تحقیق مروان نے میرے غلام کو پکڑا ہوا ہے اور وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ اس کے پاس چلیں اور جو حدیث آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اسے بھی بتائیں۔چنانچہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ گئے اور مروان کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ’’پھل میں اور کھجور کی گری میں ہاتھ نہیں کٹتا۔‘‘ چنانچہ مروان نے حکم دیا اور غلام کو چھوڑ دیا گیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ((الکثر)) سے مراد کھجور کی وہ نرم گری ہے جو اس کے تنے کے اوپر کنارے میں ہوتی ہے۔