Sunan Abi Dawood Hadith 4390 (سنن أبي داود)
[4390]حسن
ان جریج تابعہ عمرو بن الحارث وہشام بن سعد عند ابن الجارود (728 وسندہ حسن) والنسائی (4962 مختصرًا، وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ بِفِيہِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً, فَلَا شَيْءَ عَلَيْہِ،وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْہُ, فَعَلَيْہِ غَرَامَةُ مِثْلَيْہِ وَالْعُقُوبَةُ،وَمَنْ سَرَقَ مِنْہُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَہُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ, فَعَلَيْہِ الْقَطْعُ،وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِكَ, فَعَلَيْہِ غَرَامَةُ مِثْلَيْہِ وَالْعُقُوبَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْجَرِينُ: الْجُوخَانُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ درختوں پر لگی کھجوروں کا کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو ضرورت مند اپنے منہ سے کھا لے ‘ لیکن پلو میں نہ باندھے تو اس پر کچھ نہیں ‘ اور اگر کوئی کچھ لے کر نکلے تو اس پر اس کا دگنا جرمانہ اور سزا ہے ‘ اور اگر کوئی کھلیان میں محفوظ کر دینے کے بعد چرائے اور اس کی قیمت ایک ڈھال کو پہنچے تو اس میں ہاتھ کا کاٹنا ہے۔اور جو کوئی اس سے کم چرائے تو اس پر چوری شدہ کا دوگنا جرمانہ اور سزا ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ((الجرین)) سے مراد ((جوخان)) ہے ‘ یعنی جہاں کھجور وغیرہ خشک اور ذخیرہ کی جاتی ہے۔