Sunan Abi Dawood Hadith 4394 (سنن أبي داود)
[4394]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3598)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ،حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ،عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ،قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ, عَلَيَّ خَمِيصَةٌ لِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْہَمًا،فَجَاءَ رَجُلٌ،فَاخْتَلَسَہَا مِنِّي،فَأُخِذَ الرَّجُلُ،فَأُتِيَ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَأَمَرَ بِہِ لِيُقْطَعَ،قَالَ: فَأَتَيْتُہُ،فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُہُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْہَمًا؟ أَنَا أَبِيعُہُ وَأُنْسِئُہُ ثَمَنَہَا! قَالَ: فَہَلَّا كَانَ ہَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِہِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاہُ زَائِدَةُ،عَنْ سِمَاكٍ،عَنْ جُعَيْدِ بْنِ حُجَيْرٍ،قَالَ: نَامَ صَفْوَانُ. وَرَوَاہُ مُجَاہِدٌ وَطَاوُسٌ أَنَّہُ كَانَ نَائِمًا فَجَاءَ سَارِقٌ،فَسَرَقَ خَمِيصَةً مِنْ تَحْتِ رَأْسِہِ. وَرَوَاہُ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَاسْتَلَّہُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِہِ, فَاسْتَيْقَظَ،فَصَاحَ بِہِ،فَأُخِذَ. وَرَوَاہُ الزُّہْرِيُّ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ: فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ،وَتَوَسَّدَ رِدَاءَہُ،فَجَاءَ سَارِقٌ،فَأَخَذَ رِدَاءَہُ،فَأُخِذَ السَّارِقُ،فَجِيءَ بِہِ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ.
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بن جحیر)) یوں ہے۔سیدنا صفوان سو گئے۔طاؤس اور مجاہد کے الفاظ میں یوں ہے کہ وہ سوئے ہوئے تھے تو ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر ان کے سر کے نیچے سے چرا لی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ چادر سر کے نیچے سے سرکا لی تو وہ جاگ گئے اور شور مچایا تو اسے پکڑ لیا گیا۔زہری نے صفوان بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: میں مسجد میں سویا ہوا تھا،مجھ پر ایک منقش اونی چادر تھی۔جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ایک آدمی آیا اور اس نے یہ چپکے سے مجھ سے بڑی جلدی سے نکال لی۔پھر اس آدمی کو پکڑ لیا گیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا بھلا صرف تیس درہم کے بدلے میں آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں اسے اس کو فروخت کرتا ہوں اور قیمت کی ادائیگی ادھار کر لیتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم نے یہ اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کیا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت بسند ((زائدۃ عن سماک عن جعید بن جحیر)) یوں ہے۔سیدنا صفوان سو گئے۔طاؤس اور مجاہد کے الفاظ میں یوں ہے کہ وہ سوئے ہوئے تھے تو ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر ان کے سر کے نیچے سے چرا لی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ چادر سر کے نیچے سے سرکا لی تو وہ جاگ گئے اور شور مچایا تو اسے پکڑ لیا گیا۔زہری نے صفوان بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سو گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے بطور تکیہ رکھ لیا۔ایک چور آیا اور اس نے یہ چادر اڑا لی تو انہوں نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔