Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4395 (سنن أبي داود)

[4395]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (4891 وسندہ صحیح، 4892)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ مَخْلَدٌ،عَنْ مَعْمَرٍ،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ, أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ فَتَجْحَدُہُ،فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِہَا فَقُطِعَتْ يَدُہَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاہُ جُوَيْرِيَةُ،عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ-أَوْ-عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ،زَادَ فِيہِ: وَأَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ خَطِيبًا،فَقَالَ: ہَلْ مِنِ امْرَأَةٍ تَائِبَةٍ إِلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِہِ؟-ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-, وَتِلْكَ شَاہِدَةٌ فَلَمْ تَقُمْ وَلَمْ تَتَكَلَّمْ وَرَوَاہُ ابْنُ غَنَجٍ،عَنْ نَافِعٍ،عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ،قَالَ فِيہِ: فَشَہِدَ عَلَيْہَا.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر مکر جایا کرتی تھی۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو جویریہ نے بواسطہ نافع ‘ ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا تو اس میں مزید یوں کہا: نبی کریم ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کر لے۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار دہرائی۔جبکہ وہ عورت سامنے موجود دیکھ رہی تھی ‘ مگر نہ وہ اٹھی اور نہ وہ بولی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس روایت کو ابن غنج نے بواسطہ نافع ‘ صفیہ بنت ابی عبید سے بیان کیا اس میں ہے کہ پھر اس پر شہادت دی گئی۔