Sunan Abi Dawood Hadith 4396 (سنن أبي داود)
[4396]صحیح
صحیح بخاری (2648) صحیح مسلم (1688)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ،قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،قَالَتِ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ-تَعْنِي: حُلِيًّا-عَلَی أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ ہِيَ! فَبَاعَتْہُ،فَأُخِذَتْ،فَأُتِيَ بِہَا النَّبِيُّ ﷺ, فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِہَا, وَہِيَ الَّتِي شَفَعَ فِيہَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ،وَقَالَ فِيہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا قَالَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت نے کئی معروف لوگوں کے نام سے کچھ زیورات عاریتاً لیے جب کہ وہ خود کوئی معروف نہ تھی۔پھر وہ زیورات اس نے بیچ ڈالے ‘ تو پکڑ لی گئی اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائی گئی تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا۔اور یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں جو کچھ کہنا تھا کہا۔