Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4402 (سنن أبي داود)

[4402] إسنادہ ضعیف

عطاء بن السائب اختلط

انوار الصحیفہ ص 156

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ،عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ح،وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَی،عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ قَالَ ہَنَّادٌ الْجَنْبيُّ،قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ،فَأَمَرَ بِرَجْمِہَا،فَمَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ فَأَخَذَہَا فَخَلَّی سَبِيلَہَا،فَأُخْبِرَ عُمَرُ،قَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا،فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّی يَبْلُغَ،وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّی يَسْتَيْقِظَ،وَعَنِ الْمَعْتُوہِ حَتَّی يَبْرَأَ, وَإِنَّ ہَذِہِ مَعْتُوہَةُ بَنِي فُلَانٍ, لَعَلَّ الَّذِي أَتَاہَا وَہِيَ فِي بَلَائِہَا! قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَدْرِي! فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْہِ السَّلَام: وَأَنَا لَا أَدْرِي.!

ابوظبیان الجنبی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا۔پس انہوں نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ‘ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ۔وہ آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! آپ یقیناً جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ‘ بچے سے حتیٰ کہ بالغ ہو جائے اور سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور مجنون پاگل سے حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے۔‘‘ اور یہ عورت بنو فلاں کی ہے اور پاگل ہے۔شاید کہ جس نے اس کے ساتھ یہ یہ کیا ہے تو اپنی اسی کیفیت میں تھی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ نہیں جانتا (کہ یہ اسی کیفیت ‘ یعنی پاگل پن میں اس کی مرتکب ہوئی ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جانتا تو میں بھی نہیں ہوں۔